ریو دی جنیریو، 21؍اگست(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا )اولمپک میں گزشتہ 20سال کا اپنی سب سے ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے چین نے ریو اولمپکس میں اپنے خراب کارکردگی کا ذمہ دار سخت مقابلہ کو ٹھہرایا ہے اور وعدہ کیا ہے کہ وہ اپنی کمزوریوں کا جائزہ لیں گے۔چین نے 410کھلاڑیوں کا وفد بھیجا تھا جو غیر ملکی سر زمین پر ہو رہے اولمپکس میں اس کی سب سے بڑی ٹیم ہے، حالانکہ مقابلہ میں اب جب صرف ایک دن کا کھیل اور باقی ہے ایسے میں ملک صرف 24طلائی تمغہ جیت پایا ہے جو اٹلانٹا 1996کے بعد اس کی بدترین کارکردگی ہے۔چین اس بار صرف امریکہ ہی نہیں بلکہ برطانیہ سے بھی تمغوں میں پیچھے چل رہا ہے جس سے میڈیا میں اس پر تنقید ہو ر ہی ہے۔چین 2008میں میڈل ٹیبل میں سب سے اوپر رہا تھا جبکہ 2004اور 2012میں وہ دوسرے نمبر پر تھا۔چین اولمپک کمیٹی کے سربراہ لیو پینگ نے کہا کہ بڑھی ہوئی سطح سے وہ حیران ہیں۔لیو نے کہاکہ کچھ مسائل ہیں جن کو ہم نظر انداز نہیں کر سکتے، ریو کھیلوں میں ہم زیادہ میڈل نہیں جیت پائے۔ہم ان چیلنجوں کا اندازہ نہیں کر پائے جن کا سامنا ان کھیلوں میں ہمیں کرنا پڑ سکتا تھا۔انہوں نے کہاکہ حالیہ سالوں میں زیادہ ممالک نے اولمپکس کھیلوں کو اہمیت دی ہے اس لیے بین الاقوامی سطح میں بہتری آئی ہے اور مقابلہ سخت ہو گیا ہے۔